تعارف

باسمہ تعالیٰ

قرآنِ کریم میں اللہ  رب العزت کا ارشاد ہے:

اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا. (سورة مائدة)

“آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور تمہارے اوپر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے بطور دین “اسلام” کو پسند کیا۔”

یہ آیتِ کریمہ حجۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوئی تھی۔ یہ آیتِ کریمہ ہمیں واضح طور پر بتا رہی ہے کہ ہمارا دین کامل و مکمل ہے اور اللہ رب العزت کا پسندیدہ دین “دینِ اسلام” ہے جو ان شاء اللہ قیامت تک اپنی اصلی حالت پر باقی رہےگا۔

اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کی حفاظت و صیانت کے لیے ہر دور میں کچھ لوگوں کو منتخب کیا ہے، جنہوں نے قرآن و حدیث کی تعلیمات کو عام کیا، عقائدِ حقہ کی اشاعت کی اور دین کو مکمل اس نہج پر پھیلایا جو ان تک صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین کے واسطے سے پہونچا تھا۔

اس ویب سائٹ کا مقصد بھی یہی ہے کہ ہم دین اسلام کی صحیح تعلیمات کو مستند دلائل اور معتبر حوالوں کے ساتھ پیش کریں۔ اللہ تعالیٰ ہماری اس حقیر سی کوشش کو قبول فرمائیں اور امت کو اس کے ذریعہ نفع پہونچائیں۔ آمین

واضح رہے کہ یہ ویب سائٹ حضرت مفتی ابراہیم صالح جی(مہتممِ مدرسہ تعلیم الدین، اسپنگو بیچ، ڈربن، جنوبی افریقہ) کے زیرِ نگرانی چل رہی ہے۔

حضرت مفتی ابراہیم صالح جی صاحب کا مختصر تعارف:

حضرت مولانا مفتی ابراہیم صالح جی صاحب دامت برکاتہم دارالعلوم دیوبند کے ممتاز اور نامور فاضل ہیں۔ حضرت مولانا مسیح اللہ خان صاحب جلال آبادی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت فقیہ الامت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کے جلیل القدر خلیفہ ہیں۔ آپ نے دارالعلوم دیوبند میں حضرت حکیم الاسلام قاری طیّب صاحب رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا انظر شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ، جیسے اساطینِ علم و عمل کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا ہے۔ آپ تعلیم و تربیت اور تزکیہ و تصوف کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ آپ کی سرپرستی میں سینکڑوں مکاتب اور بہت سے ادارے کتاب و سنت کی اشاعت میں لگے ہوئے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا آپ سے اصلاحی تعلق ہے، جو پابندی سے آپ کی اصلاحی مجالس میں شرکت کر کے اپنے ایمان و عمل کو پختہ کر رہے ہیں۔ حضرت موصوف نے دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد اپنے وطن جنوبی افریقہ آکر اپنے مکان سے تعلیم الدین نامی مدرسہ کا آغاز کیا تھا، جو آج کل جنوبی افریقہ کے بڑے مدرسوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ الحمد اللہ سینکڑوں طلبہ مدرسہ ھٰذا میں علمِ دین حاصل کر کے دنیا کے مختلف خطوں میں اشاعتِ دین کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت مفتی صاحب مدظلہ کو صحت و عافیت کے ساتھ عمر دراز عطا فرمائیں اور امت کو ان کے وجود مسعود سے خوب خوب فائدہ پہونچائیں۔ آمین