درود شریف تزکیۂ نفس (دل کی صفائی) کا ایک ذریعہ

عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال صلوا علي فإنها زكاة لكم واسألوا الله لي الوسيلة فإنها درجة في أعلى الجنة لا ينالها إلا رجل وأرجو أن أكون أنا هو (مسند أحمد رقم ٨٧٧٠)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “مجھ پر درود بھیجا کرو ؛  کیونکہ یہ تمہارے لیے تزکیہ (دل کی صفائی کا ذریعہ)ہے اور میرے لیے اللہ تعالیٰ  سے مقامِ “وسیلہ” کی دعا کیا کرو۔ بے شک یہ (وسیلہ) جنت کے بلند ترین درجات میں ایک درجہ ہے، جو صرف ایک شخص کو ملے گا اور مجھے امید ہے کہ یہ شرف و اعزاز مجھے ملے گا ۔ (مسندِ احمد)

حضرت ابو عبیدہ بن الجرّ اح رضی اللہ عنہ کے دانتوں کا ٹوٹنا

غزوۂ احد میں کافروں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سخت وار کیا ، جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خود  کی دو کڑیاں آپ کے چہرۂ مبارک میں چبھ گئیں ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو عبیدہ بن الجرّ اح رضی اللہ عنہ انتہائی سرعت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کے لیے آگے بڑھے۔ حضرت ابو عبیدہ  رضی اللہ عنہ خود کی کڑیوں کو اپنے دانت سے نکالنے لگے۔ کچھ دیر میں ایک کڑی نکالنے میں کامیاب ہوگئے لیکن ان کا بھی ایک دانت ٹوٹ گیا۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دانت کے ٹوٹنے کی کوئی پرواہ نہیں کی؛ بلکہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ مبارک سے دوسری کڑی نکالنے لگے اور اس کو بھی نکال دیا اگر چہ دوسری کڑی نکالنے میں آپ کا ایک اور دانت بھی ٹوٹ گیا؛ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں آپ نے اس کی ذرّہ برابر پرواہ نہیں کی۔ کڑیوں کے نکلنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےجسم مبارک سے خون بہنے لگا۔ حضرت مالک بن سنان رضی اللہ عنہ (حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے والد )نے اس خون کو اپنے ہونٹوں سےچاٹ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ دیکھا تو ارشاد فرمایا: جس کے خون میں میرا خون مل گیا، اس کو آتشِ دوزخ گز ند نہیں پہونچا سکتی۔(فضائلِ اعمال ، حکایتِ صحابہ،ص۲۰۱ )

يَا رَبِّ صَلِّ وَ سَلِّم  دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ

   

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?p=6162  & http://ihyaauddeen.co.za/?p=4047