سورة الم نشرح کی تفسیر

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

اَلَمۡ نَشۡرَحۡ  لَکَ صَدۡرَکَ ۙ﴿۱﴾ وَ وَضَعۡنَا عَنۡکَ وِزۡرَکَ ۙ﴿۲﴾ الَّذِیۡۤ  اَنۡقَضَ ظَہۡرَکَ ۙ﴿۳﴾ وَ رَفَعۡنَا لَکَ ذِکۡرَکَ ؕ﴿۴﴾ فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ  یُسۡرًا ۙ﴿۵﴾ اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ  یُسۡرًا ؕ﴿۶﴾ فَاِذَا  فَرَغۡتَ فَانۡصَبۡ ۙ﴿۷﴾ وَ اِلٰی  رَبِّکَ فَارۡغَبۡ ﴿۸﴾

 کیا ہم نے آپ کے لیے آپ کا سینہ (علم و حلم سے) کشادہ نہیں کر دیا ﴿۱﴾ اور ہم نے آپ پر سے آپ کا وہ بوجھ اتار دیا ﴿۲﴾ جس نے آپ کی کمر توڑ رکھی تھی ﴿۳﴾ اور ہم نے آپ کے لیے آپ کا آوازہ (شہرت) بلند کیا ﴿۴﴾ تو بے شک ہر مصیبت کے ساتھ آسانی ہے ﴿۵﴾ بے شک ہر مصیبت کے ساتھ  آسانی ہے ﴿۶﴾ تو جب آپ فارغ ہو جایا کریں تو محنت کیا کیجیے (عبادتوں میں) ﴿۷﴾ اور اپنے رب ہی کی طرف توجّہ رکھیے ﴿۸﴾

تفسیر

اَلَمۡ نَشۡرَحۡ  لَکَ صَدۡرَکَ ۙ﴿۱﴾

کیا ہم نے آپ کے لیے آپ کا سینہ (علم و حلم سے) کشادہ نہیں کر دیا ﴿۱﴾

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی، تو آپ پر اس کا اتنا زیادہ بار اور بوجھ ہوتا تھا کہ اگرآپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر تشریف فرما ہوتے تھے، تو اونٹ بھی بیٹھ جاتا تھا۔ کیوں کہ وہ وحی کے بوجھ کو برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ وحی کی عظمت و قوّت کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

لَوۡ اَنۡزَلۡنَا ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیۡتَہٗ  خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنۡ خَشۡیَۃِ اللّٰہِ

کہ اگر ہم اس قرآن (وحی) کو پہاڑ پر نازل کرتے، تو تم یہ دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے رعب اور عظمت کی وجہ سے پہاڑ کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کا یہ عظیم فضل و کرم ہے کہ انہوں نے آپ کے سینۂ مبارک کو کشادہ کردیا۔ جس کی وجہ سے آپ کے لیے وحی کے بوجھ کو برداشت کرنا آسان ہو گیا۔

وَ وَضَعۡنَا عَنۡکَ وِزۡرَکَ ۙ﴿۲﴾ الَّذِیۡۤ  اَنۡقَضَ ظَہۡرَکَ ۙ﴿۳﴾

اور ہم نے آپ پر سے آپ کا وہ بوجھ اتار دیا ﴿۲﴾ جس نے آپ کی کمر توڑ رکھی تھی﴿۳﴾

اس آیتِ کریمہ میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بوجھ کو دور کر دیا، جو آپ کے لیے انتہائی ثقیل اور وزنی تھا۔ اس بوجھ سے مراد وحی کی کیفیت ہے جس سے آپ نزولِ وحی کے وقت بوجھ محسوس کرتے تھے۔ نیز اس سے مراد منصبِ رسالت و نبوّت کی ذمہ داری کا بوجھ ہے، جو آپ پر ڈالا گیا۔ آپ کو پوری امّت تک اللہ تعالیٰ کا دین اور قرآن کریم کا پیغام پہنچانے کی ذمہ داری دی گئی۔ اگر اس سلسلہ میں اللہ رب العزت کی تائید و نصرت شاملِ حال نہ ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینۂ مبارک کو اس کے لیے کشادہ نہیں کیا جاتا، تو آپ کے لیے اس عظیم ذمہ داری سے عہدہ بر آ ہونا ممکن نہ ہوتا۔

وَ رَفَعۡنَا لَکَ ذِکۡرَکَ ؕ﴿۴﴾

اور ہم نے آپ کے لیے آپ کا آوازہ (شہرت) بلند کیا ﴿۴﴾

اس آیتِ کریمہ میں اللہ جلّ شانہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تئیں اپنی بے پناہ محبّت و الفت کا تذکرہ کیا ہے اور اس بلند ترین مقام و مرتبہ کو بیان کیا ہے، جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سرفراز کیے گئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ شرف عظیم حاصل ہےکہ جب بھی اللہ تعالیٰ کا مبارک نام لیا جاتا ہے، تو اس کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک نام بھی لیا جاتا ہے۔ چناں نچہ اسلام میں داخل ہونے کے لیے جو کلمہ پڑھا جاتا ہے، اس میں اللہ تعالیٰ کے اسم گرامی کے ساتھ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک نام بھی لیا جاتا ہے۔ اسی طرح اذان، اقامت، خطبہ اور تشہد میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا مبارک نام لیا جاتا ہے، یہاں تک کہ اگر نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نہ لیا جائے اور آپ پر درود نہ پڑھا جائے، تو نماز ناقص رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر و منزلت اتنی زیادہ ہے کہ قرآنِ مجید میں بار بار انتہائی تعظیم و تکریم اور محبّت کے ساتھ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کرتے ہیں۔ اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں رَفَعۡنَا لَکَ ذِکۡرَکَ  کہ ہم نے آپ کا مقام و مرتبہ اور شہرہ بلند کیا ہے۔

فَاِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ  یُسۡرًا ۙ﴿۵﴾ اِنَّ مَعَ الۡعُسۡرِ  یُسۡرًا ؕ﴿۶﴾

تو بے شک ہر مصیبت کے ساتھ آسانی ہے ﴿۵﴾ بے شک ہر مصیبت کے ساتھ  آسانی ہے ﴿۶﴾

اللہ تعالیٰ کا نظام ہے کہ یہ دنیا مصائب و مشکلات کا گھر ہے۔ چناں چہ انسان اپنی زندگی میں مختلف قسم کی پریشانیوں اور مصیبتوں سے دوچار ہوتا ہے۔ کبھی صحت،مال و دولت اور اولاد کی وجہ سے مصیبتوں کا سامنا کرتا ہے، تو کبھی زمین و جائداد کو لے کر پریشانیاں  جھیلتا ہے۔ انسان خواہ جتنا بڑے عہدہ پر فائزہو اس کی زندگی میں کچھ نہ کچھ پریشانیاں ضرور آتی ہیں، چاہے وہ ذہنی اور فکری پریشانیاں ہوں یا جسمانی اور جذباتی پریشانیاں ہوں۔

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ ہمیں آگاہ کر رہے ہیں کہ ہم غمگین اور اداس نہ ہوں؛ کیونکہ ہرمصیبت کے بعد آسانی آتی ہے۔ لہذا اگر کوئی اللہ تعالیٰ کے دین پر ایمان رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر کامل بھروسہ رکھتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کے کلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں پر مکمل یقین رکھتا ہے تو وہ مصیبت کے بعد آسانی ضرور دیکھےگا اور اس کی زندگی میں تنگی کے بعد خوش حالی ضرور آئےگی۔

فَاِذَا  فَرَغۡتَ فَانۡصَبۡ ۙ﴿۷﴾ وَ اِلٰی  رَبِّکَ فَارۡغَبۡ ٪﴿۸﴾

تو جب آپ فارغ ہو جایا کریں  تو محنت کیا کیجیے(عبادتوں میں ) ﴿۷﴾ اور اپنے رب ہی کی طرف توجّہ رکھیے﴿۸﴾

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کیا جارہا ہے کہ جب آپ دین کی دعوت و تبلیغ اور دین کے مختلف شعبوں میں امّت مسلمہ کی ہدایت و رہنمائی کے فریضہ سے فارغ ہو جایا کریں، تو اپنے رب کی طرف متوجہ ہو جائیں اور عبادت میں ہمہ تن مشغول ہو جائیں۔

علمائے کرام بیان کرتے ہیں کہ دینی کاموں میں مشغول لوگوں کے لیے جس طرح یہ اہم ہے کہ وہ دین کی تعلیم و تعلم دعوت و تبلیغ کا کام کریں، لوگوں کی راہِ حق کی طرف رہنمائی کریں اور ان کو اعمالِ صالحہ کی ترغیب دیں، اسی طرح ان کے لیے یہ بھی انتہائی اہم ہے کہ وہ عبادات الٰہیہ، تعلق مع اللہ، اصلاحِ نفس اور اللہ تعالیٰ کے ذکر و اذکار میں خوب مجاہدہ کریں۔

دانش مندی کا تقاضہ یہ ہے کہ انسان اپنی ترقّی کی فکر کرے اور امّت کی ترقّی کی بھی فکر کرے۔ یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ہماری محنتیں اور کوششیں یک طرفہ نہ ہوں کہ ہم صرف اپنی فکر کریں اور امّت کو فراموش کر دیں یا یہ کہ صرف امّت کی فکر کریں اور اپنے آپ کو فراموش کر دیں۔ اس آیتِ کریمہ میں ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ دونوں میں توازن (برابری) قائم رکھیں۔ یعنی اپنی فکر کریں اور امّت کی بھی فکر رکھیں۔

Check Also

سورة تین کی تفسیر

قسم ہے انجیر کی اور  زیتون کی ﴿۱﴾ اور طورِسینین کی ﴿۲﴾ اور اس امن والے شہر کی ﴿۳﴾...