سمندر میں ڈوب کر یا کنویں میں گر کر مرنا

سمندر میں ڈوب کر مرنا

اگر کوئی شخص سمندر میں ڈوب جائے اور اس کی لاش نہ ملے، تو اس کے لیے نہ تو غسل ہے اور نہ ہی کفن اور نمازِ جنازہ۔ [۱]

کنویں میں گر کر مرنا

اگر کوئی شخص کنویں میں گر کر مر جائے اور اس کی لاش نکالنا ممکن ہو، تو اس کو نکالا جائے اور اس کو حسبِ معمول غسل اور کفن دیا جائےگا اور اس کی نمازِ جنازہ ادا کی جائےگی۔ اگر لاش نکالنا ناممکن ہو، تو غسل اور کفن لازم نہیں ہوگا، لیکن کنویں کے پاس نمازِ جنازہ ادا کی جائےگی۔ [۲]

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?p=2986


 

[۱] وشرطها أيضا حضوره (ووضعه) وكونه هو أو أكثر (أمام المصلي) (الدر المختار ٢/٢٠٨)

تنبيه ينبغي أن يكون في حكم من دفن بلا صلاة من تردى في نحو بئر أو وقع عليه بنيان ولم يمكن إخراجه بخلاف ما لو غرق في بحر لعدم تحقق وجوده أمام المصلي تأمل (رد المحتار ٢/٢٢٤)

[۲] وشرطها أيضا حضوره (ووضعه) وكونه هو أو أكثر (أمام المصلي) (الدر المختار ٢/٢٠٨)

تنبيه ينبغي أن يكون في حكم من دفن بلا صلاة من تردى في نحو بئر أو وقع عليه بنيان ولم يمكن إخراجه بخلاف ما لو غرق في بحر لعدم تحقق وجوده أمام المصلي تأمل (رد المحتار ٢/٢٢٤)

Check Also

نمازِ جنازہ کا اعادہ

جب ایک مرتبہ نمازِ جنازہ ادا کی جائے ، تو دوبارہ نمازِ جنازہ ادا کرنا جائز  نہیں ہے۔الاّ یہ کہ اگر میّت کا ولی  حاضر نہیں تھا  اور نمازِ جنازہ  اس کی اجازت  کے بغیر ادا کی گئی  ہو، تو  ولی کے  لیے نمازِ جنازہ  کا اعادہ درست ہے...