انبیائے کرام علیہم السلام کے بارے میں عقائد کا بیان

(۱) اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بہت سے انبیائے کرام بھیجے؛ تاکہ وہ لوگوں کو سیدھا راستہ دکھلائیں۔ [۱]

(۲) نبوّت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک انتخاب ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے اس کو اس عظیم الشان منصب کے لیے منتخب فرماتے ہیں۔ کوئی بھی شخص اپنی محنتوں اور کوششوں سے نبوّت حاصل نہیں کر سکتا ہے۔ [۲]

(۳) جس پیغمبر کو علیٰحدہ کتاب اور شریعت دے کر بھیجا گیا ہو، ان کو “رسول” کہا جاتا ہے اور جس پیغمبر کو علیٰحدہ کتاب اور شریعت نہ ملی ہو؛ بلکہ پچھلے رسول کی کتاب اور شریعت کی اتباع کرنے کا حکم دیا گیا ہو، ان کو “نبی” کہا جاتا ہے۔ [۳]

(۴) انبیائے کرام علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ مطیع و فرماں بردار بندے ہیں۔ وہ کبھی بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے ہیں۔

(۵) تمام انبیائے کرام علیہم السلام معصوم ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر قسم کے گناہ سے ان کی حفاظت فرمائی ہے، لہذا وہ پورے طور پر بے گناہ اور معاصی و آثام سے پاک ہیں۔ [۴]

(۶) انبیائے کرام کی صحیح تعداد کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے تمام نبیوں اور رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں خواہ ان کی تعداد جتنی بھی ہو۔ [۵]

(۷) اللہ سبحانہ و تعالیٰ نبیوں کو نبوّت کی نشانی کے طور پر معجزات عطا فرماتے ہیں ؛ لیکن یہ بات ذہن نشیں رہنی چاہیئے کہ نبی انسان ہوتے ہیں اور وہ اپنی طرف سے کسی قسم کا معجزہ نہیں کر سکتے ہیں، ان کے ہاتھوں پر جو بھی معجزات ظاہر ہوتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت اور اجازت ہی سے ہوتے ہیں۔ [۶]

(۸) سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور سب سے آخری نبی حضرت محمد اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ تمام دوسرے انبیائے کرام ان دونوں نبیوں کے درمیان آئے ہیں۔ [۷]

(۹) بعض مشہور انبیائے کرام جن کے اسمائے گرامی قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں وارد ہوئے ہیں مندرجہ ذیل ہیں:

(۱) حضرت نوح علیہ السلام، (۲) حضرت ابراہیم علیہ السلام، (۳) حضرت اسحٰق علیہ السلام، (۴) حضرت اسماعیل علیہ السلام، (۵) حضرت یعقوب علیہ السلام، (۶) حضرت یوسف علیہ السلام، (۷) حضرت داؤد علیہ السلام، (۸) حضرت سلیمان علیہ السلام، (۹) حضرت ایّوب علیہ السلام، (۱۰) حضرت موسٰی علیہ السلام، (۱۱) حضرت ھارون علیہ السلام، (۱۲) حضرت زکریا علیہ السلام، (۱۳) حضرت یحٰي علیہ السلام، (۱۴) حضرت عیسٰی علیہ السلام، (۱۵) حضرت الیاس علیہ السلام، (۱۶) حضرت الیسع علیہ السلام، (۱۷) حضرت یونس علیہ السلام، (۱۸) حضرت لوط علیہ السلام، (۱۹) حضرت ادریس علیہ السلام، (۲۰) حضرت ذو الکفل علیہ السلام، (۲۱) حضرت صالح علیہ السلام، (۲۲) حضرت ھود علیہ السلام، (۲۳) حضرت شعیب علیہ السلام۔ [۸]

(۱۰) قیامت سے پہلے نبی حضرت عیسٰی علیہ السلام دجّال کو قتل کرنے کے لیے بھیجے جائیں گے۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی نبوّت منسوخ نہیں ہوگی؛ لیکن وہ اس دنیا میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب کی حیثیت سے آئیں گے اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے شریعت کی پیروی کریں گے۔ جب تک وہ اس دنیا میں رہیں گے، ان کے پاس اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے وحی آتی رہے گی، جس کے ذریعہ وہ باطل کے خلاف لڑینگے اور امّت مسلمہ کی مدد فرمائیں گے۔ [۹]

Source:


 

[۱] (وقد أرسل الله تعالى رسلا من البشر إلى البشر مبشرين) لأهل الإيمان والطاعة بالجنة والثواب (ومنذرين) لأهل الكفر والعصيان بالنار والعقاب فإن ذلك مما لا طريق للعقل إليه وإن كان فبأنظار دقيقة ولا يتيسر إلا لواحد بعد واحد (ومبينين للناس ما يحتاجون إليه من أمور الدنيا والدين) (شرح العقائد النسفية صـ ١٦٠)

[۲] اَللّٰهُ يَصْطَفِىْ مِنَ ٱلْمَلٰئِكَةِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ ط اِنَّ اللّٰـهَ سَمِيْعٌ م بَصِيْرٌ (سورة الحج: ٧٥)

والبعثة لتضمنها مصالح لا تحصى لطف من الله تعالى ورحمة يختص بها من يشاء من عباده من غير وجوب عليه خلافا للمعتزلة ( شرح المقاصد صـــــ ۵/۵)

[۳] والرسول إنسان بعثه الله تعالى إلى الخلق لتبليغ الأحكام وقد يشترط فيه الكتاب بخلاف النبي فإنه أعم (شرح العقائد النسفية صـ ٤٠)

الرسول له شريعة وكتاب فيكون أخص من النبي (شرح المقاصد ٥/٦)

[٤] والأنبياء عليهم الصلاة والسلام كلهم منزهون عن الصغائر والكبائر والكفر والقبائح (الفقه الأكبر صـ ٥٦)

[۵] وَ رُسُلًا قَدۡ قَصَصۡنٰہُمۡ عَلَیۡکَ مِنۡ قَبۡلُ وَ رُسُلًا لَّمۡ نَقۡصُصۡہُمۡ عَلَیۡکَ ؕ وَ کَلَّمَ اللّٰہُ مُوۡسٰی تَکۡلِیۡمًا  (سورة النساء: ١٦٤)

(والأولى أن لا يقتصر على عدد فى التسمية فقد قال الله تعالى منهم من قصصنا عليك ومنهم من لم نقصص عليك ولا يؤمن فى ذكر العدد أن يدخل فيهم من ليس منهم) إن ذكر عدد أكثر من عددهم (أو يخرج منهم من هو منهم) إن ذكر عدد أقل من عددهم  (شرح العقيدة النسفية صـ ۱٦٤)

[٦] عن أبي هريرة قال قال النبي صلى الله عليه و سلم ما من الأنبياء نبي إلا أعطي ما مثله آمن عليه البشر وإنما كان الذي أوتيته وحيا أوحاه الله إلي فأرجو أن أكون أكثرهم تابعا يوم القيامة (صحيح البخاري، الرقم: ٤٦۹٦)

(وأيدهم) أي ألانبياء (بالمعجزات الناقضات للعادات) (شرح العقائد النسفية صـ ١٦١)

[۷] وأول الأنبياء آدم وآخرهم محمد صلى الله عليه وسلم  (العقائد النسفية صـ ١٦٢)

[۸] وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحٰقَ وَيَعْقُوبَ ط كُلًّا هَدَيْنَا ۚ وَنُوْحًا هَدَيْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِ دَاوُدَ وَسُلَيْمٰنَ وَأَيُّوْبَ وَيُوْسُفَ وَمُوسٰى وَهـٰرُوْنَ ط وَكَذٰلِكَ نَجْزِى الْمُحْسِنِينَ ﴿٨٤﴾ وَزَكَرِيَّا وَيَحْيٰى وَعِيسٰى وَاِلْيَاسَ ط كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِينَ ﴿٨٥﴾ وَاِسْمٰعِيلَ وَالْيَسَعَ وَيُوْنُسَ وَلُوْطًا ط وَكُلًّا فَضَّلْنَا عَلٰى الْعٰلَمِيْنَ (سورة الانعام: ٨٤-٨٦)

اِنَّآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ كَمَآ اَوْحَيْنَآ اِلٰى نُوْحٍ وَّالنَّبِيِّنَ مِنْم بَعْدِهِ ج وَاَوْحَيْنَآ اِلٰى اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَعِيسٰى وَاَيُّوْبَ وَيُوْنُسَ وَهـٰرُونَ وَسُلَيْمٰنَ ۚ   وََاٰتَيْنَا دَاوۥدَ زَبُوْرًا (سورة النساء: ١٦٣)

 وَ اذۡکُرۡ فِی  الۡکِتٰبِ  اِدۡرِیۡسَ (سورة مريم: ٥٦)

وَ اذۡکُرۡ  اِسۡمٰعِیۡلَ وَ الۡیَسَعَ وَ ذَاالۡکِفۡلِ ؕ وَ کُلٌّ  مِّنَ  الۡاَخۡیَارِ  (سورة ص: ٤٨)

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ هُوْدٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ (سورة الشعراء: ١٢٤)

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ صٰلِحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ (سورة الشعراء: ١٤٢)

اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ لُوْطٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ (سورة الشعراء: ١٦١)

اِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ (سورة الشعراء: ١٧٧)

[۹] ثم يجيء عيسى بن مريم من جهة المغرب مصدقا لمحمد وعلى ملته فيقتل الدجال ثام إنما هو قيام الساعة  ( الاستذكار ٨/٣٣٤)

(فان قيل) إعتراض على كونه خاتم النبيين (قد ورد فى الحديث) كما في صحيح البخاري ومسلم وغيرهما (نزول عيسى عليه الصلاة والسلام بعده قلنا) نعم قد ورد (لكنه) أي عيسى عليه السلام (يتابع محمدا صلى الله عليه وسلم) فيحكم على شريعته (لإن شريعته قد نسخت فلايكون إليه الوحي) اي لتجديد الشرع أما نفي الوحي مطلقا فمحتاج إلى دليل (ونصب أحكام) جديدة (النبراس صـ ٤٤٦)