درود شریف پڑھنے پر انعام

عن أبي طلحة الأنصاري رضي الله عنه قال أصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما طيب النفس يرى في وجهه البشر قالوا يا رسول الله أصبحت اليوم طيب النفس يرى في وجهك البشر قال أجل أتاني آت من ربي عز وجل فقال من صلى عليك من أمتك صلاة كتب الله له عشر حسنات ومحا عنه عشر سيئات ورفع له عشر درجات ورد عليه مثلها (سنن النسائى، الرقم: ۱۲۸۳، ورجاله موثقون كما في القول البديع صـ ۲٤۸)

حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک صبح رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش تھے۔ مسّرت و شادمانی کے آثار  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ انور پر نمایاں تھے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:”اے اللہ کے رسول ! آج آپ بہت مسرور ہیں۔ خوشی کے آثار آپ کے چہرہ پر دِکھ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ہاں، میرے رب کی طرف سے ایک پیغامبر نے آ کر یہ پیغام دیا ہے کہ آپ کی امّت میں سے جو آپ پر ایک درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس نیکیاں لکھتے ہیں، اس کے دس گناہوں کو مٹاتے ہیں، اس کے دس درجات بلند کرتے ہیں اور اس کے درود کا اس کی طرح جواب دیتے ہیں۔” (القول البدیع)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بشارت

ابو الحسن بغدادی دارمی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ابو عبد اللہ بن حامد کو مرنے کے بعد کئی دفعہ خواب میں دیکھا، ان سے پوچھا کہ کیا گزری۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے میری مغفرت فرما دی اور مجھ پر رحم فرمایا۔ انہوں نے ان سے یہ پوچھا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتاؤ  جس سے میں سیدھا جنّت میں داخل ہو جاؤں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ہزار رکعت نفل پڑھ ، اور ہر رکعت میں ایک ہزار مرتبہ قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدْ  پڑھ ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو بہت مشکل عمل ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ پھر تو ہر شب میں ایک ہزار مرتبہ درود شریف پڑھا کر۔ دارمی کہتے ہیں کہ یہ میں نے اپنا معمول بنا لیا۔ (فضائل ِ درود ،۱۵۷ ، القول البدیع)

يَا رَبِّ صَلِّ وَ سَلِّم  دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ

Source: