اذان اور اقامت کی سنتیں اور آداب- ۱٤

اذان دینے کا طریقہ:

اَللهُ أَكْبَرْ اللهُ أَكْبَرْ

اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے ۔

اَللهُ أَكْبَرْ اَللهُ أَكْبَرْ

اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔

لفظِ أكبر” کی ر “ کو دو طریقوں سے پڑھنا درست ہے۔ (۱) جزم ” ـْ ” کے ساتھ  لفظ ” الله” سے ملائے بغیر۔ (۲) فتحہ” ــَ ” کے ساتھ لفظ “الله” سے ملا کر۔ ان دو طریقوں کے علاوہ کسی اور طریقوں سے پڑھنا (مثلا لفظ اَللهُ أَكْبَرْ کی راء کو  ضمّہ کے ساتھ یا کسرہ کے ساتھ پڑھنا) خلافِ سنّت ہے۔[۱]

أَشْهَدُ أَلَّا إِلٰهَ إِلَّا اللهْ

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔

أَشْهَدُ أَلَّا إِلٰهَ إِلَّا اللهْ

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔

لفظ “ّألّا” کا تلفظ خالی منھ (یعنی باریک منھ سے نہ کہ پُر منھ سے) کیا جائے اور لام کی تشدید کو کھینچ کر نہیں کہنا چاہیئے۔ نیز یہ کہ لفظ  “أشهد” میں “ش” کے سکون ” ـْ “ کو واضح طور پر اس طرح ادا کیا جائے کہ اس کے بعد “ه” کا تلفظ ظاہر رہے یعنی “أشهد” پڑھا جائے۔ “ش” کے سکون” ـْ کو حذف کر کے، “ه” کے ساتھ ملا کر اس طرح پڑھنا کہ “ه” کا تلفظ ہی نہ ہو، درست نہیں ہے یعنی “أَشَدُ” کہنا درست نہیں ہے۔

أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهْ

میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔

أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهْ

میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔

لفظِ “أَنَّ” میں نون کو غنّہ کی مقدار سے زیادہ کھینچنا درست نہیں ہے۔ اسی طرح “محمد” میں میم ثانی کی تشدید اور “رسول” میں راء کو کھینچ کر پڑھنا درست نہیں ہے۔

حَيَّ عَلٰى الصَّلَاةْ

نماز کے لیے آؤ

حَيَّ عَلٰى الصَّلَاةْ

نماز کے لیے آؤ

لفظِ “حَيَّ” میں یاء کی تشدید کو پورے طور پر ادا کیا جائے یعنی “حَيَّ” یاء کی تشدید کے ساتھ پڑھا جائے۔ “حَيَ”(بغیر تشدید کے) پڑھنا درست نہیں ہے۔ اسی طرح “علٰی” کے عین کو اچھی طرح ادا کیا جائے۔ نیز اس بات کا خیال رکھا جائے کہ جب “الصَّلَاةْ” پر وقف کیا جائے تو “ح” (بڑی حا) کی آواز پیدا نہ ہو۔

حَيَّ عَلٰى الْفَلَاحْ

کامیابی کی طرف آؤ

حَيَّ عَلٰى الْفَلَاحْ

کامیابی کی طرف آؤ

لفظِ “الْفَلَاحْ” پر اس طرح وقف کیا جائے کہ آخر میں “ح” کی آواز نکلے، نہ کہ “ه” کی ۔[۲]

اَللهُ أَكْبَرْ اللهُ أَكْبَرْ

اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔

لآ إِلٰهَ إِلَّا اللهْ

اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔

فجر کی  اذان کس طرح دی جائے؟

فجر کی اذان میں ” حَيَّ عَلٰى الْفَلَاحْ “ کے بعد دو مرتبہ[۳]:

اَلصَّلَاةُ خَيْرٌ مِّنَ النَّوْمْ

(نماز نیند سے بہتر ہے) کہا جائے۔

عن محمد بن عبد الملك بن أبي محذورة عن أبيه عن جده قال: قلت: يا رسول الله علمنى سنة الأذان … فإن كان صلاة الصبح قلت: الصلاة خير من النوم الصلاة خير من النوم (سنن أبي داود رقم ٥٠٠)

حضرت ابو محذورہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ مجھے اذان کا مسنون طریقہ سکھایئے۔(اس حدیث میں ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : “فجر کی اذان میں (حَيَّ عَلٰى الْفَلَاحْ کے بعد دو مرتبہ) الصلاة خير من النوم کا اضافہ کرو۔”

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?cat=379


[۱] وحاصلها أن السنة أن يسكن الراء من الله أكبر الأول أو يصلها بالله أكبر الثانية فإن سكنها كفى وإن وصلها نوى السكون فحرك الراء بالفتحة فإن ضمها خالف السنة لأن طلب الوقف على أكبر الأول صيره كالساكن إصالة فحرك بالفتح (رد المحتار ۱/۳۸٦)

[۲] رد المحتار ۱/۳۸۳، بدائع الصنائع ۱/٦۳۷، الفتاوى الهندية ۱/۵۳، القول الجميل

[۳] الأذان خمس عشرة كلمة وآخره عندنا لا إله إلا الله كذا في فتاوى قاضي خان وهي الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حي على الصلاة حي على الصلاة حي على الفلاح حي على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله هكذا في الزاهدي والإقامة سبع عشرة كلمة خمس عشرة منها كلمات الأذان وكلمتان قوله قد قامت الصلاة مرتين كذا في فتاوى قاضي خان ويزيد بعد فلاح أذان الفجر الصلاة خير من النوم مرتين كذا في الكافي (الفتاوى الهندية ۱/۵۵)