اذان اور اقامت کی سنتیں اور آداب-٤

مؤذن کے فضائل

  • حدیث شریف میں مؤذن کو اللہ تعالیٰ کا سب سے بہتر بندہ کہا گیا ہے۔

عن ابن أبي أوفى قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن خيار عباد الله الذين يراعون الشمس والقمر والنجوم والأظلة لذكر الله (المستدرك للحاكم رقم ۱٦۳) [۱]

حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “بے شک اللہ تعالیٰ کے بہترین بندے وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی یاد (اور عبادت) کے لیے سورج، چاند، ستارے اور سایوں کو دیکھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں۔”

سورج، چاند، ستارے وغیرہ سے وقت کا پتہ چلتا ہے، اس لیے وہ ان کو دیکھتے رہتے ہیں اور سورج کے طلوع و غروب کے وقت کا خیال رکھتے ہیں: تا کہ تمام عبادتیں صحیح وقت پر ادا کر سکیں، مؤذن کو بھی یہ فضیلت حاصل ہے۔

اس لیے کہ وہ بھی وقت کا خوب لحاظ کرتے ہیں، تا کہ ہر نماز کے لیے صحیح وقت پر اذان دیں۔

  • سات سال تک اذان دینے والے کو جہنم سے آزادی کا پروانہ دیا جاتا ہے۔

عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من أذن سبع سنين محتسبا كتبت له براءة من النار (سنن الترمذي رقم ۲٠٦)[۲]

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “جو سات سال تک اخلاص کے ساتھ ثواب کی امید کرتے ہوئے اذان دے، اس کے لیے جہنم سے آزادی کا پروانہ لکھ دیا جاتا ہے۔”

 

 

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?cat=379


 

[۱] قال بشر بن موسى : ولم يكن هذا الحديث عند الحميدي في مسنده هذا إسناد صحيح وعبد الجبار العطار : ثقة وقد احتج مسلم والبخاري بإبراهيم السكسكي وإذا صح هذه الاستقامة لم يضره توهين من أفسد إسناده وقال الذهبي في التلخيص: إسناده صحيح

[۲] ورواه ابن ماجه والترمذي وقال حديث غريب

سكت الحافظ عن هذا الحديث في الفصل الثاني من هداية الرواة (۱/۳۱۸) ، فالحديث حسن عنده.

وعن ابن عمر رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال من أذن اثنتي عشرة سنة وجبت له الجنة وكتب له بتأذينه في كل يوم ستون حسنة وبكل إقامة ثلاثون حسنة رواه ابن ماجه والدارقطني والحاكم وقال صحيح على شرط البخاري

قال الحافظ وهو كما قال فإن عبد الله بن صالح كاتب الليث وإن كان فيه كلام فقد روى عنه البخاري في الصحيح (الترغيب والترهيب رقم ۳۸۵)