میت سے متعلق شرطیں

نمازِ جنازہ کے صحیح ہونے کے لیے میت سے متعلق شرطیں

دوسری قسم کی شرطیں وہ ہیں جو میت سے متعلق ہیں۔ ایسی شرطیں چھ ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں: [۱]

(۱) میت مسلمان ہو۔ اگر میت کافر یا مرتد ہو، تو اس کی نمازِ جنازہ ادا نہیں کی جائے گی اور مسلمان اگر چہ فاسق و فاجر یا بدعتی ہو، پھر بھی اس کی نمازِ جنازہ پڑھی جائےگی۔ [۲]

(۲) میت کے بدن کانجاست حقیقی اور نجاست حکمیّہ سے پاک ہو نا ضروری ہے۔ میت کے بدن کا نجاستِ حقیقی سے پاک ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ پیشاب ،پاخانہ اور دوسری گندگی سے پاک ہو۔ نجاست حکمیّہ سے پاک ہونے سے مراد یہ ہے کہ میّت کو پانی کی موجودگی میں  غسل دینا ضروری ہے اور  میت کو پانی دستیاب نہ ہونے کی صورت میں تیمم کرانا ضروری ہے ۔

چناں چہ اگر اس قسم کی ناپاکیاں  میّت کے کفن سے دور نہیں کی گئیں (یعنی میّت کو کفن اوڑھانے سے پہلے ناپاکیاں دور نہیں کی گئیں) یا میّت کے بدن سے دور  نہیں کی گئیں تو نمازِ جنازہ درست نہیں ہوگی۔ اسی طرح اگر میّت کو غسل نہیں دیا گیا  پانی دستیاب ہونے کی صورت میں یا میت کو تیمم نہیں  کرایا گیا پانی کے دستیاب نہ ہونے کی صورت میں تو نمازِ جنازہ درست نہیں ہوگی۔

نوٹ:-

(۱)اگر نجاستِ حقیقی (پیشاب اور پاخانہ  وغیرہ) میّت  کے بدن سے غسل دینے کے بعد خارج ہو  جائے ، تو غسل کا اعادہ  نہیں کیا جائے گا  اور  نمازِ جنازہ  صحیح ہوگی ۔

(۲) اسی طرح اگر غسل کے بعد میّت کے جسم سے نجاست خارج ہو جائے اور کفن کو آلودہ کردے، پھر بھی  نمازِ جنازہ درست ہوگی۔ [۳]

(۳) بعض علمائے کرام کی رائے یہ ہے کہ جیسے کہ میّت کا نجاست حقیقیہ اور حکمیّہ سے پاک ہونا شرط ہے اسی طرح میّت کی جگہ (وہ جگہ جہاں میّت کو نمازِ جنازہ کے لیے رکھا جاتا ہے)کا پاک ہونا نمازِ جنازہ کی  صحت کے لیے شرط ہے؛ لیکن جگہ کی پاکی اس صورت میں ضروری ہے، جب میّت کو خالی زمین پر رکھا جائے اور اگر میّت چارپائی پر ہو، تو اگر چہ زمین ناپاک ہو، پھر بھی  نمازِ جنازہ درست ہو جائےگی؛ چونکہ چارپائی پاک ہے۔ [۴]

(۳) میّت کے بدن کے ان حصّوں کو ڈھانپنا ضروری ہے، جن کو زندہ آدمی کے لیے نماز کے دوران ڈھانپنا ضروری ہے؛ لہذا اگر میّت کا پورا بدن کھلا ہو یا بدن کے وہ حصّے کھلے ہوں، جن کا نماز میں ڈھانپنا ضروری ہے، تو نمازِ جنازہ درست نہیں ہوگی۔[۵]

(۴) نمازِ جنازہ کی جگہ میّت کا موجود ہونا ضرروری ہے؛ لہذا اگر نمازِ جنازہ غائبانہ ادا کی جائے، تو درست نہیں ہوگی۔ [۶]

(۵) میّت کا امام اور مقتدیوں کے سامنے ہونا ضروری ہے۔ میّت کے سامنے ہونے کے علاوہ میّت کے جسم کا کچھ حصّہ بالکل امام کے سامنے ہونا چاہئے۔ اگر میّت امام کے سامنے نہ ہو اور نہ ہی اس کے جسم کا کوئی حصّہ امام کے سامنے ہو، تو نمازِ جنازہ درست نہیں ہوگی۔ اسی طرح اگر میّت کو امام اور مقتدیوں کے پیچھے رکھا جائے، تو بھی نمازِ جنازہ صحیح نہیں ہوگی۔ [۷]

(۶) میّت کو زمین پر رکھا جائے۔

اگر میّت کی نمازِ جنازہ اس حال میں ادا کی جائے کہ لوگ اس کو اٹھائے ہوئے یا اس کو جانور کے اوپر رکھا گیا ہو، تو نمازِ جنازہ صحیح نہیں ہوگی۔

البتہ اگر میّت کو ایسی چیز پر رکھا جائے، جو جان دار نہ ہو جیسے کرسی یا میز وغیرہ اور وہ چیز(کرسی یا میز وغیرہ) زمین پر رکھی ہوئی ہو تو نمازِ جنازہ درست ہوگی۔ [۸]

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?p=1773


 

[۱] ( وشرطها ) ستة ( إسلام الميت وطهارته )

قال العلامة ابن عابدين – رحمه الله -: قوله ( وشرطها ) أي شرط صحتها وأما شروط وجوبها فهي شروط بقية الصلوات من القدرة والعقل والبلوغ والإسلام مع زيادة العلم بموته تأمل قوله ( ستة ) ثلاثة في المتن وثلاثة في الشرح وهي ستر العورة وحضور الميت وكونه أو أكثره أمام المصلي وزاد أيضا سابعا وهو بلوغ الإمام ثم هذه الشروط راجعة إلى الميت وأما الشروط التي ترجع إلى المصلي فهي شروط بقية الصلوات من الطهارة الحقيقية بدنا وثوبا ومكانا والحكمية وستر العورة والاستقبال والنية سوى الوقت (رد المحتار ۲/۲٠۷)

[۲] وأما بيان من يصلى عليه فكل مسلم مات بعد الولادة يصلى عليه صغيرا كان أو كبيرا ذكرا كان أو أنثى حرا كان أو عبدا إلا البغاة وقطاع الطريق ومن بمثل حالهم لقول النبي صلى الله عليه وسلم صلوا على كل بر وفاجر وقوله للمسلم على المسلم ست حقوق وذكر من جملتها أن يصلى على جنازته من غير فصل إلا ما خص بدليل والبغاة ومن بمثل حالهم مخصوصون لما ذكرنا (بدائع الصنائع ۱/۳۱۱) انظر أيضا السنن الكبرى للبيهقي، الرقم: ۷٠۸٠

[۳] الطهارة من النجاسة في ثوب و بدن و مكان و ستر العورة شرط في حق الميت والإمام جميعا

قال العلامة ابن عابدين – رحمه الله -: وكذا لو تنجس بدنه بما خرج منه إن كان قبل أن يكفن غسل و بعده لا (رد المحتار ۲/۲٠۸)

[٤]  وفي القنية الطهارة من النجاسة في ثوب و بدن ومكان

قال العلامة ابن عابدين – رحمه الله -: لكن في التتارخانية سئل قاضيخان عن طهارة مكان الميت هل تشترط لجواز الصلاة عليه ؟ قال إن كان الميت على الجنازة لا شك أنه يجوز وإلا فلا رواية لهذا وينبغي الجواز (رد المحتار ۲/۲٠۸)

( و ) الثاني ( طهارته ) وطهارة مكانه لأنه كالإمام قوله ( والثاني طهارته ) عن نجاسة حكمية وحقيقية في البدن فلا تصح على من لم يغسل ولا على من عليه نجاسة وهذا الشرط عند الإمكان فلو دفن بلا غسل ولم يمكن إخراجه إلا بالنبش سقط الغسل وصلي على قبره بلا غسل للضرورة بخلاف ما إذا لم يهل عليه التراب بعد فإنه يخرج ويغسل ولو صلي عليه بلا غسل جهلا أو نسيانا ثم دفن ولا يخرج إلا بالنبش أعيدت على قبره استحسانا لفساد الأولى ويشترط طهارة الكفن إلا إذا شق ذلك لما في الخزانة أنه إن تنجس الكفن بنجاسة الميت لا يضر دفعا للحرج بخلاف الكفن المتنجس ابتداء اهـ قوله ( وطهارة مكانه ) قال في القنية الطهارة من النجاسة في الثوب والبدن والمكان وستر العورة شرط في حق الإمام يعني المصلي والميت جميعا اهـ وفي السيد وأما مكانه أي إذا كان نجسا فإن كان الميت على الجنازة تجوز الصلاة وإن كان على الأرض ففي الفوائد يجوز وجزم في القنية بعدمه اهـ نهر وجه الجواز أن الكفن حائل بين الميت والنجاسة ووجه عدمه أن الكفن تابع فلا يعد حائلا ثم المراد بالمكان الذي يشترط طهارته أما الجنازة أو الأرض إن لم يكن جنازة والحاصل أن طهارة الأرض إنما تشترط على ما في القنية إذا وضع الميت بدون جنازة أما بها فعدم اشتراط طهارة الأرض متفق عليه (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح ص۵۸۱)

[۵] (ستة) ثلاثة في المتن وثلاثة في الشرح وهي ستر العورة وحضور الميت وكونه أو أكثره أمام المصلي (رد المحتار ۲/۲٠۷)

[٦] (ووضعه) وكونه هو أو أكثره (أمام المصلي) وكونه للقبلة فلا تصح على غائب ومحمول على نحو دابة وموضوع خلفه

قال العلامة ابن عابدين – رحمه الله -: لأنه احتراز عن كونه خلفه (رد المحتار ۲/۲٠۸)

[۷] وقوله ( ووضعه ) أي على الأرض أو على الأيدي قريبا منها … فلا تصح على غائب و محمول على نحو دابة

قال العلامة ابن عابدين – رحمه الله -: أي كمحمول على أيدي الناس ، فلا تجوز في المختار إلا من عذر (رد المحتار ۲/۲٠۸)

من الشروط حضور الميت ووضعه وكونه أمام المصلي فلا تصح على غائب ولا على محمول على دابة ولا على موضوع خلفه هكذا في النهر الفائق (الفتاوى الهندية ۱/۱٦٤)

قال العلامة ابن عابدين – رحمه الله -: (قوله: وكونه هو أو أكثره أمام المصلي) المناسب ذكر قوله هو أو أكثره بعد قوله حضوره لأنه احتراز عن كونه خلفه مع أنه يوهم اشتراط محاذاته للميت أو أكثره وليس كذلك، فقد ذكر القهستاني عن التحفة أن ركنها القيام ومحاذاته إلى جزء من أجزاء الميت اهـ لكن فيه نظر، بل الأقرب كون المحاذاة شرطا فيزاد على السبعة المذكورة، ثم هذا ظاهر إذا كان الميت واحدا، وإلا فيحاذي واحدا منهم بدليل ما سيأتي من التخيير في وضعهم صفا طولا أو عرضا تأمل ثم رأيته في ط.ثم قال: إن هذا ظاهر في الإمام لأن صف المؤتمين قد يخرج عن المحاذاة (رد المحتار ۲/۲٠۸) انظر أيضا بداية المجتهد ۳/۵٠

[۸] وشرطها أيضا حضوره … فلا تصح على غائب (الدر المختار ۲/۲٠۸-۲٠۹)