ہر درود کے بدلہ ایک قیراط کے برابر ثواب

عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : من صلى علي صلاة كتب الله له قيراطا والقيراط مثل أحد أخرجه عبد الرزاق بسند ضعيف (القول البديع ص۲٦۵)

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے، “جو مجھ پر ایک درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک قیراط ثواب لکھ دیتے ہیں۔ اور ایک قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے۔ (القول البدیع)

حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ جنگ احد میں

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن مبارک پر احد کی لڑائی میں دو زرہیں تھیں(ایک ذات الفضول، دوسری فضہ) حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چٹان کے اوپر چڑھنے کا ارادہ  فرمایا  مگر(وہ اونچی تھی اور دو زرہوں کا وزن، نیز غزوۂ احد میں وہ تکلیفیں جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تھیں کہ جن کی وجہ سے چہرۂ مبارک خون آلودہ ہو گیا تھا غرض ان وجوہ سے) حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس چٹان پر چڑھ نہ سکے۔ اس لیے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو نیچے بٹھا کر ان کے ذریعہ سے اس چٹان پر چڑھے۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ طلحہ نے(جنت کو یا میری شفاعت کو) واجب کر لیا۔

جنگ احد میں لڑائی کی حالت نہایت خطرناک تھی۔ حتی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا واہمہ بعض لوگوں کو ہو گیا تھا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اس اونچی جگہ اس لیے تشریف لے گئے تھے تا کہ سب صحابہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر مطمئن ہو جاویں۔ اور بعض اکابر نے لکھا ہے کہ کفار کے دیکھنے کے لیے چڑھے تھے۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس دن کمالِ شجاعت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا تھا۔  حتی کہ صحابہ رضی اللہ عنہم جب غزوۂ احد کا ذکر فرماتے تو کہتے تھے کہ یہ دن تمام کا تمام طلحہ کا ہے۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈھال بنا رکھا تھا۔ اسّی سے زائد زخم ان کے بدن پر آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ حتٰی کہ ان کا ہاتھ بھی شل ہو گیا تھا۔ (شمائلِ ترمذی، خصائلِ نبوی، ص۶۴)

يَا رَبِّ صَلِّ وَ سَلِّم  دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ

 Source: Link: http://whatisislam.co.za/index.php/durood/item/552-one-qeeraat-of-reward-in-lieu-of-one-durood

http://ihyaauddeen.co.za/?p=7829