اذان اور اقامت کی سنتیں اور آداب-۳

مؤذن کے فضائل

  • ساری مخلوق (انسان ہو یا جنات یا کوئی اور مخلوق) جو مؤذن کی آواز سنتی ہے، قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دےگی۔

عن عبد الرحمن بن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي صعصعة الأنصاري ثم المازني عن أبيه أنه أخبره أن أبا سعيد الخدري قال له: إني أراك تحب الغنم والبادية فإذا كنت في غنمك أو باديتك فأذنت بالصلاة فارفع صوتك بالنداء فإنه لا يسمع مدى صوت المؤذن جن ولا إنس ولا شيء إلا شهد له يوم القيامة قال أبو سعيد: سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم (صحيح البخاري رقم ٦٠٩)

حضرت عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابی صعصعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ میں دیکھتا ہوں کہ تم کو بکریاں چرانا اور جنگل میں رہنا پسند ہے، لہذا (میری ایک بات یاد رکھو) جب تم بکریوں میں یا جنگل میں ہو (اور نماز کا وقت ہو جائے) اور تمہیں اذان دینی ہو تو بلند آواز سے اذان دیا کرو؛ اس لیے کہ جنّ، انسان یا کوئی اور مخلوق جس کے کان میں بھی مؤذن کی آواز پہونچےگی، وہ قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دےگی۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔

  • مؤذن کو مغفرت و بخشش کی بشارت دی گئی ہے۔ نیز اس کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ جتنے لوگ اس کی آواز سن کر نماز کے لیے آئیں گے، ان سب کی نماز کا ثواب اس کو بھی (مؤذن کو) ملے گا۔

عن البراء بن عازب أن نبي الله صلى الله عليه وسلم قال: إن الله وملائكته يصلون على الصف المقدم والمؤذن يغفر له بمد صوته ويصدقه من سمعه من رطب ويابس وله مثل أجر من صلى معه  (سنن النسائي رقم ٦٤٥)[۱]

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ پہلی صف میں نماز پڑھنے والوں پر خصوصی رحمت نازل فرماتے ہیں اور فرشتے ان کے لیے دعا کرتے ہیں۔ اور مؤذن کو اس کی آواز کی مسافت کے بقدر مغفرت کی جاتی ہے (اگر اس کے اتنے گناہ ہیں کہ وہ جہاں سے اذان دیتا ہے اور جہاں تک اس کی آواز پہنچتی ہے اس کے گناہ اس پوری جگہ کو محیط ہے، تو بھی اذان کی برکت سے وہ سارے صغائر گناہ معاف ہو جائیں گے یا اس کا مطلب ہے کہ زیادہ سے زیادہ دور تک اس کی آواز کے پہونچنے میں جتنا وقت لگتا ہے، اتنے وقت میں جو کچھ گناہ اس نے اپنی  زندگی میں کیے ہیں،وہ سب صغائر گناہ معاف ہو جائیں گے) اور جو بھی مخلوق خواہ وہ حیوانات کے قبیل سے ہو یا غیر حیوانات کے قبیل سے ہو، جو اس کی آواز سنتی ہے، وہ سب (قیامت کے دن) اس کے لیے گواہی دےگی اور مؤذن کو ان تمام لوگوں کی طرح اجرو ثواب ملے گا، جنہوں نے اس کے ساتھ نماز ادا کی (جس نے بھی مؤذن کی اذان سن کر نماز ادا کی، اس کا ثواب مؤذن کو بھی ملے گا)۔

 

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?cat=379


 

[۱] قال المنذري في الترغيب والترهيب (۱/۲٤۳): رواه أحمد والنسائي بإسناد حسن جيد

قوله بمدى صوته وفي نسخة بمد صوته قيل معناه بقدر صوته وحده فإن بلغ الغاية من الصوت بلغ الغاية من المغفرة وان كان صوته دون ذلك فمغفرته على قدره أو المعنى لو كان له ذنوب تملأ ما بين محله الذي يؤذن فيه إلى ما ينتهي إليه صوته لغفر له وقيل يغفر له من الذنوب ما فعله في زمان مقدر بهذه المسافة (حاشية السندي ۱/۱٠٦)

Check Also

مسجد کی سنتیں اور آداب – ۱

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ مسجد میں داخل ہونے کے وقت دایاں پیر پہلے داخل کرنا اور نکلتے وقت بایاں پیر پہلے نکالنا سنت میں سے ہے...