وضو کی سنتیں اور آداب-۱

۱)   وضو کے لیے او نچی جگہ: کرسی وغیرہ پر بیٹھنا اور مقام وضو کا صاف ستھرا ہونا۔ [۱]

عن عبد خير عن علي رضي الله عنه أنه أتي بكرسي فقعد عليه ثم دعا بتور فيه ماء فكفأ على يديه ثلاثا (سنن النسائي رقم ٩٣)

حضرت عبد خیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے ایک کرسی لائی گئی ، آپ اس پر تشریف فرما ہوئے ، پھر ایک برتن میں پانی منگوایا اور (لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقۂ وضو سکھانے کے لیے) تین مرتبہ اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی بہایا یعنی (اپنے ہاتھوں گٹوں تک تین بار دھویا)۔

 ۲)  وضو  کی نیت کرنا۔[۲]

 ۳)   وضو شروع کرنے سے پہلے مسنون دعا پڑھنا :[۳]

بسم الله ، والحمد لله

“میں اللہ تعالیٰ کے نام سے وضو شروع کرتا ہوں اور تمام تعریفیں  اللہ کے لیے ہیں۔”

عن أبى هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا أبا هريرة إذا توضأت فقل بسم الله والحمد لله فإن حفظتك لا تبرح تكتب لك الحسنات حتى تحدث من ذلك الوضوء (مجمع الزوائد رقم ١١١٢)

حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابو ھریرہ جب تم وضو کرو تو “بسم الله , والحمد لله” کہو اس لیے کہ تمہاری حفاظت پر مامور فرشتے تمہارے لیے نیکیاں قلم بند کرتے رہیں گے ؛ تا آں کہ تمہارا  وضو  ٹوٹ جائے۔

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?cat=130


 

[۱] (ومن آدابه) … (استقبال القبلة ودلك أعضائه) … (والجلوس فى مكان مرتفع) (شامى ١/١٢٧)

[۲] ( البداية بالنية ) أي نية عبادة لا تصح إلا بالطهارة كوضوء أو رفع حدث أو امتثال أمر (شامى ١/١٠٥)

[۳] ( و ) البداءة ( بالتسمية ) قولا وتحصل بكل ذكر لكن الوارد عنه عليه الصلاة والسلام باسم الله العظيم والحمد لله على دين الإسلام

قال الشامي : قوله ( لكن الوارد الخ ) قال في الفتح لفظها المنقول عن السلف وقيل عن النبي صلى الله عليه وسلم باسم الله العظيم والحمد لله على الإسلام وقيل الأفضل بسم الله الرحمن الرحيم بعد التعوذ وفي المجتبى يجمع بينهما اه وفي شرح الهداية للعيني المروي عن رسول الله باسم الله والحمد لله رواه الطبراني في الصغير عن أبي هريرة بإسناد حسن اهـ (رد المحتار١/١٠٩)