بیت الخلاء کی سنتیں اور آداب-۵

۱۱) بیت الخلاء میں نہ کھانا اور نہ پینا۔

۱۲)  بیت الخلاء میں ضرورت سے زیادہ وقت صرف نہ کرنا۔ [۱٩] اگر بیت الخلاء چند لوگوں کے درمیان مشترک ہو یا وہ بیت الخلاء سب کے لیے ہو، تو ضرورت سے زیادہ وقت صرف کرنا، دوسروں کے لیے باعثِ تکلیف ہوگا۔

۱۳)  اکڑوں  بیٹھ کر قضائے حاجت کرنا۔ کھڑے ہو کر قضائے حاجت کرنا مکروہ ہے۔ [۲٠]

عن عائشة رضي الله عنها قالت من حدثكم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يبول قائما فلا تصدقوه ما كان يبول إلا قاعدا (سنن الترمذي، الرقم: ۱۲) [٢١]

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جو بھی تم سے یہ بیان کرے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر قضائے حاجت (پیشاب و غیرہ) کرتے تھے۔ تو اس کی بات پر یقین مت کرو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر ہی قضائے حاجت فرماتے تھے۔

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?cat=71


 

[۱٩] إن هذه الحشوش محتضرة (سنن أبي داود، الرقم: ٦)

ولا يطيل القعود على البول والغائط (الفتاوى الهندية ١/٥٠)

[۲٠] ويكره أن يبول قائما أو مضطجعا أو متجردا عن ثوبه من غير عذر فإن كان بعذر فلا بأس به (الفتاوى الهندية ١/٥٠)

[٢١] قال الترمذي حديث عائشة أحسن شيئ فى هذا الباب وأصح

قال النووي فى شرحه على الصحيح لمسلم (١/١٣٣) رواه أحمد بن حنبل والترمذي والنسائي وآخرون وإسناده جيد والله أعلم وقد روي في النهي عن البول قائما أحاديث لا تثبت ولكن حديث عائشة هذا ثابت