بیت الخلاء کی سنتیں اور آداب-٤

۸)  استنجاء کے لیے بائیں ہاتھ کا استعمال کرنا ۔ دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنا نا جائز ہے۔ [۱۵]

عن عبد الله بن أبي قتادة عن أبيه رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال إذا بال أحدكم فلا يأخذن ذكره بيمينه ولايستنجي بيمينه (صحيح البخاري، الرقم:١٥٤)

حضرت عبداللہ بن ابو قتادہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی پیشاب کرے (قضائے حاجت کرے) تو وہ اپنا ذکر اپنے دائیں ہاتھ سے نہ پکڑے اور نہ دائیں ہاتھ سے استنجاء کرے۔

۹) پیشاب ، پاخانہ کے دوران بات چیت نہ کرنا الّا یہ کہ ضرورت شدیدہ ہو۔ [۱٦]

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يخرج اثنان إلى الغائط فيجلسان يتحدثان كاشفين عورتهما فإن الله عز وجل يمقت على ذلك (مجمع الزوائد، الرقم: ۱۰۲۱) [۱۷]

حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دو آدمی قضائے حاجت کے لیے (ایسی جگہ) نہ جائے کہ دونوں قضائے حاجت کے دوران ستر کھولے ہوئے، آپس میں بات چیت کرے ، بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ عمل نا پسندیدہ ہے۔

۱۰)  بیت الخلاء کے اندر زبان سے کسی قسم کا ذکر نہ کرنا۔ اگر چھینک آئے، تو  الحمد اللہ  مت کہو۔ اور اگر کوئی سلام کرے ، تو جواب مت دو۔ [۱۸]

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?cat=71


 

[۱۵] قال العلامة ابن عابدين رحمه الله ثم يفيض الماء باليمنى على فرجه ويعلي الإناء ويغسل فرجه باليسرى… (رد المحتار ١/٣٤٥)

[۱٦] عن ابن عمر رضي الله عنهما أن رجلا مر ورسول الله صلى الله عليه وسلم يبول فسلم فلم يرد عليه (صحيح مسلم، الرقم: ٣٧٠)

(ولا يتكلم إلا لضرورة) لأنه يمقت به (مراقي الفلاح صـ ٥٢)

[۱۷] رواه الطبراني في الأوسط ورجاله موثقون (مجمع الزوائد، الرقم: ١٠٢١)

[۱۸] ولا يتكلم ولا يذكر الله تعالى ولا يشمت عاطسا ولا يرد السلام ولا يجيب المؤذن فإن عطس يحمد الله بقلبه ولا يحرك لسانه (الفتاوى الهندية ١/٥٠)