زندگی کی آخری سانسیں

جب انسان کی سانس اکھڑ جائے او رسانس لینا دشوار ہو جائے، بدن کے اعضاء ڈھیلے پڑ جائیں کہ کھڑا نہ ہو سکے، ناک ٹیڑھی ہو جائے، کنپٹیاں بیٹھ جائیں ، تو سمجھنا چاہیئے کہ اس کی موت کا وقت آ گیا ہے۔ شریعت میں ایسے شخص کو “محتضر” (قریب المرگ) کہا گیا ہے۔ [1]

احادیث مبارکہ میں ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ مرنے والے کے قریب سورۂ یٰسین یا سورۂ بقرہ کی تلاوت کریں۔ ان سورتوں کی تلاوت سے موت کی سختی کم ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی خود نہ پڑھ سکے تو کسی اور سے پڑھوا دے۔ [2]

اس میں کوئی شک نہیں ہےکہ قریب المرگ شخص کے لیے یہ انتہائی دشوار اور نازک مرحلہ ہے لہذا جو لوگ اس کے قریب بیٹھے ہوں، وہ ہرگز کوئی ایسی بات نہ کریں، جس سے اس کا دل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہٹ کر دنیا کی طرف مائل ہوجائے۔ کیوں کہ یہ وقت دنیا سے جدائی اور اللہ جلّ جلالہ کے دربار میں حاضری کا وقت ہے؛ لہذا اس وقت صرف ایسے اعمال کرنے چاہئے، جن سے اس کا دل پورے طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف مائل ہو۔ [3]

قریب المرگ کو کیسے لٹایا جائے؟

جب آدمی سکرات الموت میں ہو(مرنے لگے) تو سنت یہ ہے کہ اس کو دائیں کروٹ قبلہ رخ لٹا دیا جائے اور اگر یہ دشوار ہو، تو اس کو چت لٹا دیا جائے اور اس کے پیروں کو قبلہ کی طرف کر دیا جائے۔ نیز اس کے سر کو تھوڑا سا اونچا کر دیا جائے؛ تا کہ اس کا چہرہ قبلہ کی طرف ہو جائے ۔ اور اگر یہ بھی دشوار ہو، تو اس کو اس کی ہیئت پر چھوڑ دیا جائے۔ [4]

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?p=1374


[1] وعلامات الاحتضار أن تسترخي قدماه فلا تنتصبان ويتعوج أنفه وينخسف صدغاه وتمتد جلدة الخصية كذا في التبيين وتمتد جلدة وجهه فلا يرى فيها تعطف هكذا في السراج الوهاج (الفتاوى الهندية 1/157)

[2] و يندب قراءة يٰسۤ والرعد قال الشامي : لقوله صلى الله عليه وسلم اقرءوا على موتاكم يٰسۤ صححه ابن حبان وقال المراد به من حضره الموت وروى أبو داود عن مجالد عن الشعبي قال : كانت الأنصار إذا حضروا قرءوا عند الميت سورة البقرة إلا أن مجالدا مضعف حلية (قوله والرعد) هو استحسان بعض المتأخرين لقول جابر رضي الله عنه إنها تهون عليه خروج روحه إمداد (رد المحتار 2/191)

[3] عن أم سلمة قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا حضرتم المريض أو الميت فقولوا خيرا فإن الملائكة يؤمنون على ما تقولون قالت فلما مات أبو سلمة أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا رسول الله إن أبا سلمة قد مات قال قولي اللهم اغفر لي وله وأعقبني منه عقبى حسنة قالت فقلت فأعقبني الله من هو خير لي منه محمدا صلى الله عليه وسلم (صحيح مسلم رقم 919)

(وأعقبني) من الإعقاب أي أبدلني وعوضني (منه) أي في مقابلته (عقبى) كبشرى أي بدلا صالحا (حاشية السندهي عل سنن النسائي 1/258)
ذكر الشيخ مولانا أشرف علي التهانوي رحمه الله هذا الأدب في “بهشتي زيور” وعلق عليه المفتي محمود حسن الكنكوهي رحمه الله أن هذا الأدب يخرج من عموم لفظ الخير المذكور في هذه الرواية ونصه هذا قال : ومن الخير له ما ذكره المؤلف كما لا يخفى

[4] ( يوجه المحتضر ) وعلامته استرخاء قدميه واعوجاج منخره وانخساف صدغيه ( القبلة ) على يمينه هو السنة ( وجاز الاستلقاء ) على ظهره ( وقدماه إليها ) وهو المعتاد في زماننا ( و ) لكن ( يرفع رأسه قليلا ) ليتوجه للقبلة ( وقيل يوضع كما تيسر على الأصح ) صححه في المبتغى ( وإن شق عليه ترك على حاله ) والمرجوم لا يوجه معراج قال الشامي : قوله ( وجاز الاستلقاء ) اختاره مشايخنا بما وراء النهر لأنه أيسر لخروج الروح وتعقبه في الفتح وغيره بأنه لا يعرف إلا نقلا والله أعلم بالأيسر منهما ولكنه أيسر لتغميضه وشد لحييه وأمنع من تقوس أعضائه بحر قوله ( ليتوجه للقبلة ) عبارة الفتح ليصير وجهه إلى القبلة دون السماء قوله ( ترك على حاله ) أي ولو لم يكن مستلقيا أو متوجها ( رد المحتار 2/189)