ماہ محرم اور عاشوراء

یہ اللہ تعالیٰ کا نظام ہے کہ انہوں نے بعض چیزوں کو بعض چیزوں پر خصوصی فضیلت اور اہمیت دی ہے۔ چنانچہ انسانوں میں انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ و السلام کو دیگر لوگوں پر خاص فضیلت او ر فوقیت دی گئی ہے۔ حرمین شریفین او رمسجدِ اقصیٰ کو دنیا کے دیگر حصوں کی بنسبت خصوصی عظمت اور انتہائی عظیم مقام او ر تقدس عطا کیا گیا ہے اور سال کے بارہ مہینوں میں سے چار مہینوں :محرم ، رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ کو خاص مقام و مرتبہ حاصل ہے۔ اسی طرح عاشورہ کے دن کو سال کے دوسرے دنوں کے مقابلہ میں خصوصی  فضائل عطا کیے گئے ہیں  اور  اس کوبے پناہ برکتوں کا حامل دن بنایا گیا ہے۔

جس طرح ماہِ ذی الحجہ کو یہ عظمت و برتری حاصل ہے کہ اس کو ارکانِ حج کی ادائیگی اور قربانی کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ اسی طرح ماہِ محرم کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس کو  “شہر اللہ ” (اللہ تعالیٰ کا مہینہ)کا خطاب دیا گیا ہے اور اسی مہینہ میں عاشورہ کا روزہ رکھا جاتا ہے ۔یومِ عاشورہ کی بے پناہ فضیلت و عظمت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انتہا ئی شوق اور  وارفتگی سے اس کی آمد کا انتظار فرماتے تھے ۔

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال ما رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يتحرى صيام يوم فضله على غيره إلا هذا اليوم يوم عاشوراء(بخاري رقم ٢٠٠٦)

حضر ت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عاشورہ کے دن سے زیادہ کسی بھی فضیلت والے دن کے روزہ کا انتظار کرتے نہیں دیکھا ۔(بخاری شریف)

عن أبي قتاده رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم صيام يوم عاشوراء إنى أحتسب على الله أن يكفر السنة التى قبله(مسلم رقم ١١٦٢)

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے امید ہے کہ عاشورہ کے دن کے روزہ  کیبرکت سے اللہ تعالیٰ پچھلے سال کے  (صغیرہ) گناہوں کو مٹا دیں گے۔ (مسلم شریف)

پورا مہینہ روزہ رکھنے کا ثواب

ماہِ محرم کو اللہ تعالیٰ کا مہینہ کہا گیا ہے اور اس کے روزے کو ماہِ رمضان کے روزے کے بعد سب سے بہتر روزہ قرار دیا گیا ہے۔ ماہِ محرم کو ایک خصوصی فضیلت یہ حاصل ہے کہ اس کے ہر روزہ کے بدلہ پورا مہینہ روزہ رکھنے کا ثواب ملتا ہے۔ یہ فضیلت ماہِ محرم کے علاوہ کسی اور مہینہ کو حاصل نہیں ہے۔

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال قال رسول الله  صلى الله عليه وسلم : من صام يوم عرفة كان له كفارة سنىتين و من صام يوما من المحرم فله بكل يوم ثلاثون يوما.(الترغيب والترهيب رقم١٥٢٩)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے عرفہ کے دن (نویں ذی الحجہ) کا روزہ رکھا، اس کے دو سال کے گناہ معاف ہو جائیں گے اور جس نے ماہِ محرم میں روزہ رکھا، اس کے دو سال کے گناہ معاف ہو جائیں گے اور  جس نے ماہِ محرم میں روزہ رکھا تو اس کو ہر روزہ کے بدلہ مکمل تیس دن (پورا مہینہ) روزہ رکھنے کا ثواب ملے گا۔(ترغیب وترھیب)

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أفضل الصيام بعد رمضان شهر الله المحرم و أفضل الصلاة بعد الفريضة صلاة الليل.(مسلم رقم١١٦٣)

اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رمضان کے بعد سب سے بہترین روزہ اللہ تعالیٰ کا مہینہ : ماہِ محرم کا روزہ ہے اور فرض نمازوں کے بعد سب سے بہترین نماز رات کی نماز (تہجد کی نماز) ہے۔(مسلم شریف)

یومِ عاشورہ کا مسنون روزہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے اندر اس مبارک سنت پر عمل کرنے کا کس قدر جذبہ اور ولولہ تھا، اس کو مندرجہ ذیل حدیث سے اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔

عن الربيع بنت معوذ بن عفراء رضي الله عنها قالت فكنا بعد ذلك نصومه و نصوم صبياننا الصغار منهم إن شاء الله و نذهب ألى المسجد فنجعل لهم اللعبة من العهن فأذا بكى أحدهم على الطعام أعطيناهم إياه عند الإفطار(مسلم رقم ١١٣٦)

حضرت ربیع بنت معوّذ  بن عفراء رضی اللہ عنہما فرتا تی ہیں کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے اور اپنے بچوں کو بھی ا س دن روزہ رکھنے کی ترغیب دے دیتے تھے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اپنے بچوں کے لیے اون کے کھلونے بناتے تھے او رجب کوئی بچہ روزہ کے دوران بھوک کی وجہ سے روتا ، تو اس کو کھلونا دے دیتے ، یہاں تک کہ افطار کا وقت ہو جاتا ۔(صحیح مسلم)

عاشورہ کی تاریخ

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت سے قبل مکہ مکرمہ میں عاشورا کا روزہ رکھا کرتے تھے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہونچے ، تو آپ نے یہود یوں کو دیکھا کہ وہ عاشورہ کےدن روزہ رکھتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان یہودیوں سے دریافت کیا کہ وہ کیوں عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہیں ، تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ دن ہمارے لیے بہت عظیم ہے، اس لیے کہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون او راس کے لشکر کے ظلم و جبر سے نجات دی تھی اور فرعون اور اس کے لشکرکو ہلاک و بربارد کیا تھا۔

عن ابن عباس رضى الله عنهما قال قدم النبي صلى الله عليه وسلم المديىة فرأى اليهود تصوم يوم عاشورہء فقال ما هذا قالوايوم صالح هذا يوم نجى الله بني إسرائيل من عدوهم فصامه موسى قال فأنا أحق بموسى منكم فصامه وأمر بصيامه.(بخارى, رقم ٢٠٠٤)

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے ، تو آپ نےیہودیوں کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے دیکھا۔تو آپ نے اس روزے کے بارے میں دریافت کیا۔ یہودیوں نے جواب دیا:  یہ ایک بابرکت دن ہے۔ اسی دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمنوں (فرعون اور اس کا لشکر)سے نجات دی تھی، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے (اس نعمت کے شکریہ پر)اس دن روزہ رکھا تھا۔ (یہ جواب سن کر)نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: ہم تم سے زیادہ موسیٰ علیہ السلام کی اتباع اور پیروی کے حق دار ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنا شروع کیا او ر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔(بخاری شریف)

رمضان کا روزہ فرض ہونے سے قبل عاشورہ کا روزہ فرض تھا۔ جب رمضان مبارک کا روزہ فرض ہو گیا تو عاشورہ کے روزہ کی حیثیت “سنت” کی ہو گئی۔

عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم أنها قالت : كان يوم عاشوراء يوما تصومه قريش في الجاهلية و كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصومه في الجاهلية فلما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة صامه و أمر بصيامه فلما فرض رمضان كان هو الفريضة و ترك يوم عاشوراء فمن شاء صامه ومن شاء تركه(موطأ الإمام مالك رقم ٨٤٢)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ (زمانۂ اسلام سے قبل)عہدِ جاہلیت میں قریش عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس دن روزہ رکھتے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے، تو یہاں بھی آپ نے اس دن روزہ رکھا اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا(چوں کہ اس وقت تک عاشورہ کا روزہ فرض تھا)جب رمضان کا روزہ فرض کر دیا گیا ۔ تو عاشورہ کے روزہ کی فرضیت ختم ہوگئی (بلکہ اس کی حیثیت”سنت”کی ہو گئی ، جس کا دل چاہے رکھے اور  جس کا دل نہ چاہے نہ رکھے۔(موطاامام مالک)

عاشورہ کے روزے کی اہمیت اس سے اچھی طرح ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری زندگی اس دن روزہ رکھا اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا بھی عمل اسی طرح رہا۔ مزید برآں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات سے قبل صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ حکم دیا کہ یہود کی مخالفت میں عاشورہ کے روزے کے ساتھ ایک دن مزید روزہ رکھو۔

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم صوموا يوم عاشوراء و خالفوا فيه اليهود صوموا قبله يوما أو بعده يوما.(السنن الكبرى للبيهقى رقم ٨٤٠٦, التلخيص الحبير رقم ٩٣١)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عاشورہ کےدن روزہ رکھو اور  یہود  کی مخالفت کرو (چوں کہ یہود بھی اس دن روزہ رکھتے ہیں ، لہذا ان کی مخالفت کرو  اور) عاشورہ سے پہلے (نو محرم کو)یا عاشورہ کے بعد  (گیارہ محرم کو)بھی روزہ رکھو۔(سنن کبریٰ للبیقی)

عاشورہ کی حدیث سے سبق

جیسا کہ معلوم ہوا کہ عاشورہ کا روزہ بہت سے فضائل و برکات کا حامل ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ اس سے ہمیں ایک انتہائی اہم سبق ملتا ہے۔ اور  و ہ یہ ہے کہ ہمیں زندگی کے تمام لمحات اور شعبو ں میں اسلامی طور و طریقہ پر مضبوطی سے قائم رہنا چاہیئے، کافروں ، یہودیوں اور نصرانیوں کی مشابہت سے پورے طور پر اجتناب کرنا چاہیئے اور ہمارے لیے یہ بالکل روا نہیں ہے کہ ہم اسلامِ دشمن قوموں کی نقل کریں اور ان کے طور و طریق اور طرزِ حیات کو اپنائیں۔ روزہ ایک عبادت ہے، اس کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو یہود کی مشابہت سے بچانے کے لیے دو دن (نو ، دس یا دس گیارہ محرم )کو روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ اس سے ہم اچھی طرح اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کس قدر ناگوار تھا کہ ان کی امت پہننے اوڑھنے، کھانے پینے اور زندگی کے دیگر امور میں کافروں کی نقل کریں اور ان کے طرزِ حیات کو اپنائیں۔ کافروں کے طرز کی نقل کو “تشبہ” کہا جاتا ہے اور یہ (تشبہ)اسلام میں بالکل ممنوع ہے؛ اس لیے کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تشبہ اختیار کرنے والا اپنی شناخت کے لیے اسلام کے دشمن قوموں کے طریقوں پر چل رہا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک طریقے کی مخالفت کر رہا ہے۔ کافروں کی مشابہت کی شناخت و قباحت حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے بالکل آشکارہ ہے۔

عن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من تشبه بقوم فهو منهم.(أبو داؤد رقم ٤٠٣٣)

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “من تشبه بقوم فهو منهم”جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے، اس کا شمار انہیں میں ہوگا۔(ابو داؤ د)

یہ بات بالکل واضح ہے کہ کوئی بھی انسان اپنے دشمن کی نقل اور مشابہت کو پسند نہیں کرتا ہے؛ بلکہ سارے لوگ اپنے محبوب کی نقل کرنا پسند کرتے ہیں۔ لہذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اتباع کرنے والوں  پر بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی مشابہت اختیار کریں ، ان کی سنت اور طورو طریق پر چلیں نہ کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اور مسلمانوں کے دشمنوں کے بیہودہ طرز حیات کو اپنائیں اور ان کی نقل کریں۔

لباس

کافروں کی نقل زندگی کے کسی بھی شعبہ میں ہو سکتی ہے؛ لیکن ایسا عام طور پر پہننے اوڑھنے اور لباس میں ہوتا ہے۔اس لیے کہ انسا ن اپنے ظاہر ی حلیہ اور لباس کی وجہ سے اس کے روپ میں نظر آتا ہے ، جس روپ میں وہ  اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہے۔ مزید یہ کہ عام طور پر اس کا مشاہدہ ہوتا ہے کہ انسان کے لباس کا اس کے اخلاق و عادات پر اثر پڑتا ہے۔ ظاہری حلیہ اور لباس کا انسانی زندگی پر کتنا  گہرا  اثر پڑتا ہے اس کا ادراک کافروں کو بھی ہے۔ کچھ ملکوں میں برقعہ اور حجاب پر پابندی عائد کی گئی ہے ۔ یہ اس بات کی کھلی شہادت ہے کہ کافروں کو یہ اندیشہ اور ڈر لاحق ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسلامی طرزِ زندگی اور لباس دوسروں پر اثر انداز ہو جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ کفار اسلامی شناخت کو مٹا نا چاہتے ہیں اور اپنے طریقوں کو اختیار کرنے پر مجبور کر رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

ولن ترضىٰ عنك اليهود ولا النصٰرىٰ حتىٰ تتبع ملتهم(البقرة: ١٢٠)

یہود و نصاریٰ تم سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے یہاں تک کہ تم ان کے مذہب کی پیروی کرو۔(سورۂ بقرہ:۱۲۰)

چناں چہ جب تک کہ ہمارا حلیہ اور لباس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق نہ ہو  اور ہم کفار کی مشابہت سے اجتناب نہ کریں ، ہمارے لیے ایک مسلمان اور کافر(یہود و نصاریٰ اور  ملحدین)کے درمیان امتیاز کرنا مشکل ہی نہیں بالکل ناممکن ہو جاتا ہے او راس کا مشاہدہ ہوتا رہتا ہے۔

رسوم و بدعات

بہت سے لوگ دس محرم کو بہت سے ایسے کام کرتے ہیں، جن کی اسلام میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔ و ہ کام محض  رسوم و بدعات کے قبیل سے ہیں۔ انہیں خرافات و بدعات میں سے ایک رسم حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر گریہ و زاری اور ماتم کرنا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت تاریخ کا انتہائی المناک سانحہ اور دردناک واقعہ ہے، مگر عاشورہ کے فضائل و برکات کا سیدنا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عاشورہ کے دن کو ساری فضیلتیں اس وقت سے حاصل ہیں ، جب کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ پیدا بھی نہیں ہوئےتھے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر  شمشیر زنی ،گریہ و  زاری، سینہ پیٹنا اور ماتم (جو کہ شیعہ کرتے ہیں)محض خرافات ہیں ۔ اسلام میں ان چیزوں کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔

عاشورہ کے دن اہلِ خانہ پر خرچ کرنے کی فضیلت

عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کی خاص فضیلت کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بھی ترغیب دی ہے کہ ہم اس دن اپنے گھروالوں پر فراخ دلی سے خرچ کریں اور سخاوت سے پیش آئیں۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من أوسع على عياله و أهله يوم عاشوراء أوسع الله عليه سائر سنته (قال المنذرى في الترغيب : رواه البيهقى و غيره من طرق و عن جماعة من الصحابة و قال البيهقي : هذه الأسانيد و إن كانت ضعيفة فهي إذا ضم بعضها إلى بعض أخذت قوة و الله أعلم,الترغيب والترهيب رقم ١٥٣٦)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، جو شخص عاشورہ کے دن اپنے گھر والوں پر فراخ دلی سے  خرچ کریگا، اللہ تعالیٰ اس کو پورے سال بہت زیادہ روزی عطا کرے گا۔”(الترغیب و الترہیب ۱۵۳۶)

سوال و جواب

عاشورہ کا روزہ

سوال :- کیا محرم کے پہلے عشرہ میں روزہ رکھنا مسنون ہے ؟

جواب :- اسلامی مہینوں میں چار مہینے انتہائی قابلِ تعظیم اور بابرکت ہیں ۔ ان میں سے ایک مہینہ ماہِ محرم ہے۔ اور کسی بھی مقدس مہینہ میں کوئی بھی نیک عمل کیا جائے، اس کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ حدیث شریف میں یہ بھی آیا ہے کہ ماہِ محرم میں ایک دن روزہ رکھنے سے مکمل تیس دن روزہ رکھنے کا ثواب ملتا ہے ۔ معلوم ہوا کہ ہمیں ماہِ محرم میں روزہ رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے اور خاص طور پر نو اور دس یا دس اور گیارہ محرم کو روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اور انہیں دونوں دنوں میں روزہ رکھنا مسنون ہے ۔ حدیث شریف میں وارد ہے کہ دسویں محرم کا روزہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔  (شعب الایمان, تفسیر ابن کثیر ،  مجمع الزوائد ، احکام القرآن)

سوال :- میری والدہ ضعف و نقاہت کی وجہ سے دس محرم کو روزہ نہیں رکھ سکی۔ اس کے بدلہ انہوں نے گیارہ محرم کو روزہ رکھا تو کیا  ان کو عاشورہ کا ثواب ملے گا؟

جواب :- روزہ درست ہے ۔جہاں تک عاشورہ کے ثواب کی بات ہے ، تو حدیث شریف میں وارد ہے کہ عاشورہ کا ثواب اس کو ملے گا ، جو نو او ردس یا دس اور گیارہ محرم کو روزہ رکھے گا (صحیح مسلم ، السنن الکبریٰ، شامی، بدیع الصنائع)

سوال :- کیا صرف دس محرم کو روزہ رکھنا درست ہے یعنی اگر کوئی نو (۹) یا گیارہ(۱۱) محرم کو روزہ   نہ رکھے، صرف ایک دن: دس(۱۰) محرم  کو روزہ رکھے، تو یہ درست ہے؟

جواب :- صرف دس محرم کو روزہ رکھنا خلافِ سنت اور مکروہ ہے۔ نو اور دس یا دس اور گیارہ محرم کو روزہ رکھنا سنت ہے۔(نہ کہ صرف دس محرم کو)(شامی، بدیع الصنائع)

سوال :- برائے مہربانی یہ بتائیں کہ کیا محرم کے دو روزے الگ الگ رکھے جا سکتے ہیں یعنی ایک روزہ نو محرم کو اور دوسرا گیارہ محرم کو رکھنا درست ہے؟

جواب:- عاشورہ کا دن دس محرم ہے۔ حدیث شریف میں عاشورہ کی جو فضیلتیں وارد ہیں وہ اس شخص کے لیے ہیں جو نو اور دس محرم یا دس اور گیارہ محرم کو روزہ رکھنا ہے، لہذا ہمیں نو اور دس یا دس اور گیارہ محرم کو روزہ رکھنا چاہیئے ۔ نو اور گیارہ محرم کو روزہ رکھنے والے کو عاشورہ کی فضیلتیں حاصل نہیں ہوں گی ، تا ہم اس کے روزہ درست ہوںگے۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی، شامی ، بدیع الصنائع)

سوال:- اگر کوئی نو اور دس یا دس اور گیارہ محرم کو قضا کی نیت سے روزہ رکھے ، تو کیا اس کو عاشورہ کا ثواب حاصل ہوگا ؟

جواب :- روزہ صحیح ہوگا، لیکن اس کو عاشورہ کا ثواب نہیں ملے گا ۔ عاشورہ کا ثواب اس کو ملے گا جو ان دنوں میں نفلی روزہ رکھےگا ۔(عزیز الفتاویٰ ، احسن الفتاویٰ)

اہل و عیال پر خرچ کرنا

سوال:- عاشورہ کے دن گھروالوں پر خرچ کرنے سے متعلق جو حدیث ہے، اس کے بارے میں یہ پوچھنا ہے کہ کیا عاشورہ کے دن ہی سامان خرید کر گھروالوں کو دینا ہے یا ایسا بھی کر سکتے ہیں کہ مصروفیات کی وجہ سے کچھ دن پہلے خریداری کر لیں اور  عاشورہ کے دن گھروالوں کو دے دیں؟

جواب:- اگر کوئی کھانا وغیرہ عاشورہ کے دن سے پہلے خرید لے اور عاشورہ کے دن گھروالوں  کو کھلائے، تو اس کو بھی حدیث میں وارد ثواب ملے گا اور فضیلت حاصل ہوگی۔

وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من أوسع على عياله وأهله يوم عاشوراء أوسع الله عليه سائر سنته (الترغيب والترهيب رقم ١٥٣٦)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو بھی عاشورہ کے دن اپنے گھروالوں پر کشادگی کرے گا (فراخ دلی سے خرچ کرے گا)، اللہ تعالیٰ اس پر پورے سال کشادگی کریں گے (خوب نواز یں گے) ۔(ترغیب و ترہیب)

رسوم و خرافات

سوال :- کیا ساؤ تھ افریقہ میں ماہِ محرم کے دوران سیاہ لباس پہننے سے احتراز کرنا چاہیئے، چوں کہ شیعہ سیاہ لباس پہنتے ہیں ؟

جواب:- ہاں، اگر سیاہ لباس پہننے سے شیعوں سے مشابہت حاصل ہو، تو اس سے احتراز کرنا چاہیئے۔(ابو داؤد ، فتاویٰ محمودیہ)

سوال:- عاشورہ کے دن نکاح کرنے کی کیا اہمیت ہے؟ کیا اس کی کوئی خاص فضیلت ہے؟

جواب:- عاشورہ کے دن نکاح کرنے کی کوئی خاص فضیلت و اہمیت نہیں ہے۔ حدیث شریف میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب کسی کو مناسب جوڑا مل جائے، تو وہ بغِیر  تاخیر کے فورا نکاح کر لے۔ (ترمذی)

سوال:- کیا عاشورہ کے دن دوستوں اور احباب کے درمیان ہدایا اور تحائف  کے تبادلہ (لینے اور دینے)کا کوئی ثبوت ہے؟

جواب : – عاشورہ کے دن اہل و عیال پر خرچ کرنا مسنون ہے۔ دوستوں سے ہدایا اور تحائف لینا اور دینا مسنون نہیں ہے، لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔

سوال:- کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عاشورہ کے دن سرمہ لگانے کا حکم دیا گیا ہے، کیا اس کا کوئی ثبوت ہے؟

جواب:- سرمہ لگانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر شب کو سونے سے پہلے سرمہ لگاتےتھے۔ عاشورہ کے دن سرمہ لگانے کی اسلام میں کوئی اصلیت نہیں ہے۔(شامی ، عمدۃ القاری)

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?p=8824